Sports

فٹبال کے میدان میں ایران کی جدو جہد: 2026 ورلڈ کپ کے پسِ منظر اور اس کے اثرات

فٹبال کے میدان میں ایران کی جدو جہد: 2026 ورلڈ کپ کے پسِ منظر اور اس کے اثرات

جیسے ہی 2026 کی فیفا ورلڈ کپ ختم ہونے والی ہے، ایران کی ٹیم (ٹیم ملاّی) کے دل شکستہ مگر جیتے ہوئے کھلاڑیوں کی کہانی دنیا کے کھیل کے شائقین کے دلوں میں گونج رہی ہے۔ امریکی، میکسیکن اور کینیڈین سٹیجوں پر جاری یہ ٹورنامنٹ نہ صرف کھیل کا میلہ تھا، بلکہ جیوپولیٹیکل کشمکش، سفری پابندیاں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے نئے سوالات بھی اٹھائے۔ یہ مضمون ایران کی ٹیم کی کارکردگی، اس کے پیچھے کی سیاسی رکاوٹیں اور عالمی شائقین کے ردعمل پر تفصیلی روشنی ڈالتا ہے۔

ٹیم ملاّی کا گروپ مرحلہ: ایک ہیڈنکُر کے ساتھ تین برابر پوائنٹس

ایران نے گروپ جی میں مصر، ساؤدی عرب اور امریکہ کے میزبان ملک کے مقابلے میں کھیل کر تین ڈرا حاصل کیں۔ سئیٹ میں 1‑1 کے برابر اسکور کے ساتھ مصر کے خلاف کھیل کے آخری منٹ میں شجاع خالدزادے کے گول کو وی اے آر نے آف سائیڈ قرار دیا، جس سے ٹیم کے امیدوں کا بلبلا ٹُٹ گیا۔ نتیجے کے طور پر ایران کے پاس صرف تین پوائنٹس تھے اور وہ آٹھ تھرڈ‑پلیسڈ ٹیموں میں سے ایک بننے کے لئے ایک پوائنٹ سے کم تھے۔

اس ڈرا کے بعد مصر نے راؤنڈ آف 32 میں جگہ بنائی، جبکہ ایران کے کیپٹن مہدی تارمی نے افسوس کے ساتھ کہا: "ہم ایک پوائنٹ سے باہر رہ گئے"۔ یہ نتیجہ نہ صرف کھیل کے اعتبار سے بلکہ سیاسی اور لاجسٹک پریشانیوں کے پیش نظر بھی ایک بڑی ناکامی تھی۔

سفری پابندیاں اور لاجسٹک مشکلات: امریکی پابندیاں کھیل کو متاثر کر گئیں

ٹورنامنٹ کے دوران ایران کے سٹاف کو امریکی ویزا نہ ملنے کی وجہ سے ٹیم کا بیس کیمپ ایریزونا سے ٹیکساس کے قریب میکسیکو کے ٹِجوانا منتقل کرنا پڑا۔ ہر میچ کے بعد کھلاڑیوں کو میکسیکو واپس آنا پڑتا تھا، جس نے فٹنس اور ذہنی تھکن میں اضافہ کیا۔ ٹیم کے کپتان تارمی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا: "ہمیں لاجسٹک سپورٹ نہیں مل رہی، کوئی مدد نہیں کر رہا"۔ اس کے علاوہ، امریکی سفارت خانے نے ایران کے کوچ اور میڈیکل عملے کے ویزے کی منظوری کو متعدد بار موخر کیا، جس سے میچ کے دن کے تیاریاں متاثر ہوئیں۔

یہ رکاوٹیں صرف سفر تک محدود نہیں رہیں۔ ایران کے کھلاڑیوں کو امریکی سٹیج پر رات گزارنے کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے انہیں میکسیکو میں ہی قیام کرنا پڑا۔ اس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو وقت کی کمی اور خوراکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مخالف ٹیمیں آرام دہ ہوٹل اور ٹریننگ فیسلٹیوں سے مستفید ہو رہی تھیں۔

وی اے آر اور فیصلے: ٹیکنالوجی کی دو دھاری تلوار

ٹیم ملاّی کے لئے ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) نے ایک بار ہی نہ صرف امیدیں بڑھائیں بلکہ پھر انہیں توڑ بھی دیا۔ مصر کے خلاف 93ویں منٹ میں خالدزادے کے گول کے بعد وی آر نے صرف چند سینٹی میٹر کی آف سائیڈ دکھائی، جس سے گول منسوخ ہو گیا۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا جب ٹیم کے اسٹاف میں ایک دوسرے کے سر پر ٹکرانے سے ایک کا ناک ٹوٹ گیا۔ یہ واقعات ایران کے شائقین کے درمیان شدید احتجاج کا باعث بنے اور سٹیج پر میڈیا نے اس پر تنقیدی سوالات اٹھائے۔

وی آر کے اس استعمال پر ایران کے سفارتی حلقوں نے الزام لگایا کہ "دوسری ٹیموں کے ساتھ سازش" ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی ریاستی ٹی وی نے مبینہ طور پر مصر کے کھلاڑیوں کے سوشیل میڈیا پر شاذ و نادرست تبصروں کو بھی اس جھگڑے کا حصہ بنایا۔ اس سے عالمی میڈیا نے اس ٹورنامنٹ کی شفافیت پر شک پیدا کیا۔

عالمی شائقین کی ردعمل: دل شکستگی کے ساتھ بھی محبت

ایران کے میچ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نیا رجحان دیکھنے کو ملا: ایرانی کھلاڑیوں کی تصویریں اور ویڈیوز، خاص طور پر رامین رضائیان کی اداس چہرے والی تصویر، لاکھوں بار شیئر ہوئی۔ "یہ سب سے زیادہ ریسسٹنٹ ورلڈ کپ تھا" جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ میں شامل ہو گئے۔ کئی غیر ایرانی شائقین نے ایران کے کھلاڑیوں کے خلاف ہونے والی غیر منصفانہ سلوک کے خلاف آواز اٹھائی اور "فٹبال سب کے لئے ہے" کے نعرے لگائے۔

دوسری جانب، کچھ میڈیا ایجنسیاں ایران کے خلاف ہونے والی سیاسی پابندیوں پر توجہ مرکوز کر رہی تھیں اور اس کو "سب سے زیادہ نسل پرست ورلڈ کپ" کے طور پر بیان کیا۔ اس تنقید نے فیفا پر دباؤ بڑھایا کہ وہ آئندہ ایونٹس میں سیاسی مداخلت کو روکنے کے لئے سخت قواعد بنائے۔

فیفا کی ذمہ داری اور آئندہ کے لئے سفارشات

ٹیم ملاّی کے کیپٹن تارمی نے فیفا پر براہ راست تنقید کی: "یہ ایک تباہی ورلڈ کپ ہے، فیفا کو ہر مسئلہ حل کرنا چاہیے"۔ انہوں نے خاص طور پر ویزا، لاجسٹک سپورٹ اور میچ کے دوران ٹیکنالوجی کے غیر جانبدار استعمال پر سوال اٹھایا۔ فیفا کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں ملا، لیکن آئندہ 2028 کے ایونٹ کے لئے سفری اور سیکیورٹی پروٹوکولز کی تجدید کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فیفا کو اپنی "سپورٹ سسٹم" میں واضح شفافیت لانی ہوگی۔ اس میں ایمرجنسی لاجسٹک یونٹ کا قیام، تمام ٹیموں کے لئے برابر سفری سہولیات اور وی آر کے فیصلوں کے لئے آزاد ریفری پینل شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے بغیر، عالمی فٹبال کا اعتبار کمزور پڑ سکتا ہے اور سیاسی کشمکشیں کھیل کے اصل مقصد کو دھندلا سکتی ہیں۔

ایران کے شائقین اور پاکستانی عوام کی مشترکہ جذبات

پاکستان میں بھی اس ورلڈ کپ نے خاص توجہ حاصل کی۔ پاکستانی شائقین نے سوشل میڈیا پر ایرانی ٹیم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے "ہم سب ایک ہی رنگ کے فٹبال کے شوقین ہیں" کے نعرے لگائے۔ کئی پاکستانی یوٹیوب چینلز نے ایران کے میچ کی تجزیاتی ویڈیوز بنائی اور کھلاڑیوں کی محنت کی تعریف کی۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستانی میڈیا نے ایران کے خلاف امریکی سفارتی پابندیوں پر بھی روشنی ڈالی اور اس کو کھیل کی آزادی کے خلاف ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔

یہ مشترکہ جذبات دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی پل بناتے ہیں اور اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ فٹبال صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک عالمی زبان ہے جو سرحدوں اور سیاسی اختلافات کو پار کر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔

Frequently asked

ایران کی ٹیم نے ورلڈ کپ میں کیوں باہر رہ گئی؟

ٹیم نے تین برابر پوائنٹس حاصل کیے، لیکن دوسرے میچوں کے نتائج کی وجہ سے وہ آٹھ تھرڈ‑پلیسڈ ٹیموں میں سے ایک بننے کے لئے ایک پوائنٹ سے کم رہ گئی۔

کیا امریکی سفارتی پابندیوں کا اثر ٹیم پر پڑا؟

ہاں، ویزا نہ ملنے کی وجہ سے ٹیم کا بیس کیمپ میکسیکو منتقل کرنا پڑا، رات گزارنے کی اجازت نہ تھی اور لاجسٹک سپورٹ میں شدید کمی آئی۔

وی آر کے فیصلے نے میچ پر کیسے اثر ڈالا؟

ایجپٹ کے خلاف 93ویں منٹ کا گول آف سائیڈ قرار دیا گیا، جس سے ایران کو فوری جیت سے محروم کر دیا گیا اور ٹیم کے اندر تناو بڑھ گیا۔

فیفا نے اس معاملے پر کیا ردعمل دیا؟

فیفا نے ابھی تک واضح بیان نہیں دیا، لیکن آئندہ ایونٹس کے لئے سفری اور سیکیورٹی پروٹوکولز کی تجدید کا وعدہ کیا ہے۔

پاکستانی شائقین نے ایران کے خلاف کیا ردعمل دکھایا؟

پاکستانی شائقین نے سوشل میڈیا پر ایران کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا، تجزیاتی ویڈیوز بنائی اور سیاسی پابندیوں پر تنقید کی۔